ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی بیٹی کا آخری موبائل میسج

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان، مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے
وہ اپنی منفرد اندازِ گفتگو، مذہبی پروگراموں اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میڈیا میں اک نمایاں مقام رکھتے تھے
انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر مذہبی اور سماجی نوعیت کے پروگراموں کی میزبانی کی اور سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا
اپنی پیشہ ورانہ کامیابیوں کے باوجود عامر لیاقت کی ذاتی زندگی اکثر تنازعات کا شکار رہی
خصوصاً ان کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کے ساتھ ازدواجی اختلافات نے میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی
11مئی 2022 کو ان کی کچھ نجی قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جنھیں دانیہ شاہ نے جاری کیا
اس واقعے نے عامر لیاقت کی نجی زندگی کو شرمندگی شدید تنقید اور عوامی بحث کا موضوع بنا دیا
ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد عامر لیاقت شدید ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوگئے
اور آہستہ آہستہ عوامی زندگی سے دور ہوتے گئے
چند ہفتوں بعد، 9 جون 2022 کو ان کی اچانک وفات کی خبر نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا
ان کی موت کے حوالے سے
ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کو ان کی بیٹی کے موبائل پر آنے والے اک میسج نے مار دیا جس میں لکھا تھا
” ابا ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے “
