سرگودھا کوٹ مومن کے سرکاری ڈاکٹرز اور پولیس کی افسوسناک حرکت نے انسانیت کا سر جھکا دیا۔

کوٹ مومن کے رہائشی محمود خان اپنی معصوم اور شدید بیمار بیٹی کو ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ مومن لے کر گئے، مگر افسوس کہ وہاں موجود ڈاکٹر نے بچی کو چیک کرنے سے انکار کر دیا۔
جب مجبور باپ نے اپنی بیمار بیٹی کی حالت دیکھ کر ویڈیو بنائی تو ڈاکٹر آگ بگولہ ہوگیا اور 15 پر کال کرکے پولیس بلا لی۔ پولیس نے بھی انسانیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بیمار بچی کے والد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر دیا۔
ظلم کی انتہا یہ ہے کہ معصوم بچی کی حالت ہسپتال میں مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے مزید خراب ہوگئی، جس کے بعد اسے سرگودھا منتقل کرنا پڑا۔
ایک طرف شدید بیمار معصوم بچی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے، دوسری طرف اس کا بے بس باپ کوٹ مومن پولیس کی حوالات میں بند ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر کی ڈیوٹی نہیں بھی تھی تو کیا انسانیت بھی ختم ہوچکی ہے؟
ایک مجبور باپ کی فریاد سن کر چند منٹ بچی کو دیکھ لینا کون سا جرم تھا؟
پولیس کو بھی سوچنا چاہیے تھا کہ ایک بیمار بچی کے والد کو گرفتار کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟
ڈی پی او سرگودھا سے اپیل ہے کہ:
محمود خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے
واقعے کی شفاف انکوائری کی جائے
ذمہ دار ڈاکٹر اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے
