pakistan

جنازے میں ایک نئی روایت… ہمدردی نے خاندان کا سہارا بن کر مثال قائم کر دی

پنجاب کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے ایک واقعے نے انسانیت اور باہمی تعاون کی خوبصورت مثال قائم کر دی۔ ایک غریب شخص کے انتقال کے بعد جب اس کا جنازہ ادا کیا جا رہا تھا، تو امام صاحب نے شرکاء کو ایک اہم بات کی طرف متوجہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مرحوم اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور اس کے پیچھے ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں، جن کے پاس فی الحال کوئی ذریعۂ آمدن نہیں۔ اس موقع پر جنازہ گاہ کے دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں۔

نمازِ جنازہ کے بعد جب رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ کسی نے تھوڑی رقم دی اور کسی نے زیادہ، مگر سب نے مل کر ایک ایسے خاندان کے لیے سہارا فراہم کیا جو مشکل وقت سے گزر رہا تھا۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تعزیت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عملی مدد ہی اصل ہمدردی ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں ایسے اقدامات کو فروغ دیا جائے تو بہت سے ضرورت مند خاندانوں کو فوری سہارا مل سکتا ہے۔

یہی جذبہ معاشرے کو مضبوط بناتا ہے—جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ میں ساتھ کھڑے ہوں اور مشکل وقت میں ہاتھ تھام لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *