ایک ایسی لرزہ خیز کہانی جس کے انجام نے قانون اور عدالت دونوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔

ایک نکاح کے فوری بعد معمولی تلخ کلامی پر ایک دولہے کے ہاتھوں اپنے ہی سگے سالے کا قتل ہو گیا، جس کی پاداش میں عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی۔ جیل کی کال کوٹھڑی میں جب اس کی زندگی کے آخری لمحات قریب آئے تو اس نے ایک ایسی انوکھی خواہش ظاہر کی جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا؛ اس نے کہا کہ “میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں، میری آخری خواہش ہے کہ مجھے میری بیوی کے ساتھ ہمبستری کی اجازت دی جائے تاکہ میری نسل آگے بڑھ سکے اور مرنے کے بعد میرا نام لینے والا کوئی موجود ہو۔”
اگرچہ یہ ایک غیر معمولی فرمائش تھی، لیکن انسانی ہمدردی کے تحت اسے اپنی بیوی سے ملنے کی آخری مہلت دے دی گئی۔ کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ ایک رات کا عمل اس کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ ثابت ہونے والا ہے۔ اس ملاقات کے دوران جب میاں بیوی تنہائی میں ملے، تو بیوی نے روتے ہوئے وہ راز فاش کر دیا جو وہ اب تک خاندان کے دباؤ میں چھپائے بیٹھی تھی۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس کا بھائی مرا نہیں تھا بلکہ وہ ایک خطرناک مجرم تھا جس نے اپنی موت کا ڈرامہ رچا کر کسی اور کی لاش وہاں رکھی تھی تاکہ دولہے کو پھانسی دلوا کر اس کی جائیداد ہڑپ کر سکے۔
اس ایک رات کی مہلت نے تفتیش کا رخ موڑ دیا اور جب پولیس نے دوبارہ قبر کشائی کی تو پتہ چلا کہ قبر میں موجود شخص کوئی اور تھا، جبکہ مقتول (سالہ) سرحد پار بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس طرح اس آخری خواہش نے نہ صرف ایک بے گناہ کی جان بچا لی بلکہ اس گھناؤنی سازش کا بھی پردہ فاش کر دیا جسے قانون کی آنکھیں بھی نہیں دیکھ سکی تھیں۔
