سہاگ رات کا سانحہ… غیر معیاری دوا نے نئی زندگی چھین لی

چوک اعظم کے ایک علاقے میں خوشیوں بھرا گھر اچانک غم میں بدل گیا، جب شادی کے اگلے ہی دن ایک نوجوان کی زندگی ختم ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق محمد عمران چوہان، جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹریشن تھے، شادی کے بعد اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے جا رہے تھے۔ تاہم مبینہ طور پر ایک غیر معیاری اور غیر تصدیق شدہ دوا کے استعمال کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ حالت تشویشناک ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق ایسی غیر رجسٹرڈ ادویات یا نام نہاد “طاقت” کے نسخے سنگین طبی مسائل پیدا کر سکتے ہیں، جن میں جسمانی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی دوا یا سپلیمنٹ استعمال کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ غیر معیاری اشیاء جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ غیر ذمہ دارانہ مشوروں اور غیر تصدیق شدہ علاج پر انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔
