اللہ کا فضل: انگلینڈ اور کینیڈا کی کمائی سے بنگلے بنتے تو آپ نے دیکھے ہونگے مگر دو بھائیوں نے۔۔۔

اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں : انگلینڈ اور کینیڈا کی کمائی سے بنگلے بنتے تو آپ نے سنے اور دیکھے ہونگے مگر دو سگے بھائیوں نے پاکستان میں کمائیاں کرکے 3 سال کے عرصہ میں شاندار بنگلہ بنا لیا ۔۔۔ جس نے دیکھا عش عش کر اٹھا ۔۔۔ مگر اتنا پیسہ کہاں سے اور کیسے آیا ؟
جانیے راز کی بات چند سال پہلے آزاد کشمیر کے قصبہ پونا کے محسن اور احسن کے پاس یہ سب کچھ نہ تھا ، انکے والد سولہ سال تک ٹرکوں اور بسوں پر ڈرائیوری کرتے رہے ، مگر بیٹے جوان ہوئے اور کام کرنے کے قابل ہوئے تو والد کے پیر پکڑ لیے کہ آپ گھر بیٹھیں ۔ اللہ اللہ کریں اور آرام کریں ۔ روٹی رزق اور گھر کا انتظام ہمارے ذمہ ۔۔۔ تایا نے محسن کو ایک دکان کھول دی ۔ چند ماہ کھنچ تان کر گزارا ہوا پھر محسن اور احسن نے دکان کے ساتھ سٹیج ڈیکوریشن اور ایونٹ مینجمنٹ کا کام شروع کردیا اور سب سے قابل ذکر بات ، دونوں بھائیوں نے پانچ وقت اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کرنا اپنا معمول بنا لیا ۔۔۔ اسکے بعد رب ان پر اتنا مہربان ہوا کہ انکے پاس کام کے آرڈر ہفتہ پہلے بک ہوتے تھے ۔ یہ کام کرتے چلے گئے ۔ نیت صاف رکھی اور علاقے کے متعدد بیروزگار نوجوانوں کو اپنے پاس کام پر رکھا ۔ 3 سے چار سال کے قلیل عرصہ میں انہوں نے سوزوکی کیری ڈبہ سے ٹویوٹا جی ایل آئی تک پہنچ کر دکھایا پھر دونوں بھائیوں نے مشترکہ طور پر اس بنگلے کی تعمیر شروع کروا دی ۔۔۔ ایک بھائی کاروبار پر رہتا کہ کام کا ناغہ نہ ہو جبکہ دوسرا بھائی کزنوں اور علاقے کے ہنر مندوں کی مدد سے بنگلے کا کام کرواتا رہا ۔۔ایک سے ڈیڑھ سال کی مدت اور کروڑوں روپے کی لاگت سے چند ہفتے قبل یہ بنگلہ پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ آج خوبصورت وادی کے بیچوں بیچ یہ بنگلہ ایسے نظر آتا ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہو ۔۔۔۔۔ لوگ پوچھتے ہیں اتنے کم عرصہ میں اتنا پیسہ کیسے آیا ؟ انکا جواب ہوتا ہے ۔ نیت صاف رکھو ۔ عاجز رہو ، ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو اور مسلسل محنت کرو تو سب کچھ ممکن ہے ۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم ان بھائیوں کے جان مال میں مزید برکت ڈالے اور انہیں توفیق دے کہ علاقے کے ہر بیروزگار کے لیے روزگار کا وسیلہ بن جائیں۔
