خاموشی کا حساب… ایک باپ کا ایسا فیصلہ جس نے سب بدل دیا

صادق صاحب نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سعودیہ میں محنت مزدوری کرتے ہوئے گزارا، اس امید کے ساتھ کہ بڑھاپے میں اولاد ان کا سہارا بنے گی۔ مگر جب وہ وطن واپس آئے تو حالات توقعات کے برعکس نکلے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے ہی گھر میں تنہا ہوتے گئے، یہاں تک کہ ان کی موجودگی بوجھ محسوس ہونے لگی۔
کچھ عرصہ خاموشی سے یہ سب برداشت کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ گھر والوں نے یہ سمجھا کہ اب پھر سے آمدن کا سلسلہ شروع ہوگا اور زندگی پہلے جیسی چلتی رہے گی۔
چند دن بعد ان کی اہلیہ نے بیٹوں کے گھر کے قریب ایک بڑی کوٹھی خریدی اور وہاں منتقل ہو گئیں۔ بیٹوں کو گمان ہوا کہ شاید یہ سب بیرونِ ملک سے بھیجی گئی رقم کا نتیجہ ہے۔ اگلے ہی دن جب وہاں بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کیا گیا تو وہ خوشی خوشی وہاں پہنچے۔
لیکن صورتحال اس وقت بدل گئی جب ان کے سامنے ایک قانونی حقیقت رکھی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ جائیداد دراصل صادق صاحب نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے پہلے ہی اپنی اہلیہ کے نام محفوظ کر رکھی تھی، اور وہ بیرونِ ملک کسی مزدوری کے لیے نہیں بلکہ اپنے معاملات سمیٹنے گئے تھے۔
اس موقع پر واضح کیا گیا کہ اس گھر کے ایک حصے کو اب ایسے بزرگ افراد کے لیے مختص کیا جا رہا ہے جو اپنی اولاد کی توجہ سے محروم ہیں۔ صادق صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی باقی زندگی انہی لوگوں کے ساتھ گزاریں گے۔
یہ واقعہ ایک گہرا پیغام دیتا ہے کہ والدین کی قدر و عزت صرف ان کی کمائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان کی خدمت اور احترام ہر اولاد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
