pakistan

کئی سالوں سے دھڑلے سے کو-کین کا کاروبار کرنے والی پنکی اب ہی کیوں پکڑی گئی

انمول پنکی (Anmol Pinky) کی گرفتاری کا اصل سچ—وہ غلطی جس نے اسے سسٹم کی ‘لاڈلی کو گرفتار کرنے پر مجبور کردیا۔۔

آپ کو یاد ہوگا ایان علی اربوں روپے ادھر سے ادھر کر کے آج دبئی میں موجیں کر رہی ہے، اور فضیلہ عباسی کی فائل بھی خاموشی سے بند ہو گئی۔ لیکن آخر انمول پنکی کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ اسے ‘سیلوٹ’ مارنے والا سسٹم آج اس کے پیچھے پڑ گیا؟

اندر کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں منشیات بیچنا اتنا بڑا جرم نہیں، جتنا بڑا جرم ‘سسٹم کو آنکھیں دکھانا’ ہے۔ انمول پنکی کا اصل گناہ کوکین کا دھندہ نہیں تھا، بلکہ اس کا وہ تکبر تھا جس میں وہ خود کو سسٹم سے بھی بڑا سمجھنے لگی۔ جب اس نے طاقتور افسروں کو دھمکیاں دیں اور چیلنج کیا کہ “روک سکو تو روک لو”، تو اس نے وہ لکیر پار کر لی جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔

سسٹم کو اس وقت تک کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جب تک اسے اس کا حصہ ملتا رہے، لیکن جیسے ہی کوئی مہرہ ‘مالک’ بننے کی کوشش کرے، اسے کچی مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پنکی بھی ایان علی کی طرح بیرونِ ملک فرار ہو جائے گی یا پھر اس بار سسٹم اسے عبرت کا نشان بنائے گا؟

سچ تو یہ ہے کہ یہاں مجرم وہ نہیں جو قانون توڑتا ہے، مجرم وہ ہے جو سسٹم کی اوقات یاد دلانے کی جرات کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *