حقیقت کا تھپڑ

حامد میر کے مطابق، جب ایجنسیوں نے جنرل ایوب کو ان کی 100 فیصد مقبولیت کی رپورٹ دی تو حقیقت جاننے کے لیے وہ حلیہ بدل کر سینما جا پہنچے۔
جب پردے پر صدر کی فلم چلی تو سب لوگ ڈر کے مارے کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگے، لیکن ایوب خان اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھے رہے۔ اتنے میں ساتھ کھڑے ایک شخص نے ان کے سر پر زور دار تھپڑ رسید کیا اور غصے سے بولا: “کھڑا ہو جا بے وقوف! کیا ہم سب کو بھی مروائے گا؟”
اس ایک تھپڑ نے صدر کو فوراً سمجھا دیا کہ عوام تالیاں محبت میں نہیں، بلکہ ان کے خوف سے بجا رہے تھے۔
