pakistan

منڈی بہاؤالدین : 45 سالہ شخص کا پرسرار قتل

میرا سہاگ کس نے اجاڑا ۔۔۔؟؟ والدین کی لاپرواہی ، موبائل فون یا نفسانی ہوس ؟؟ 45 سالہ شادی شدہ مرد کے ق۔ت۔ل کا ذمہ دار کون ؟ منڈی بہاؤالدین کے ایک شخص کے 1 ماہ غائب رہنے کے واقعہ کا ڈراپ سین ۔۔۔۔ نا۔جائز تعلقات نے مروا دیا ۔۔۔۔۔۔ 45 سالہ قیصر پاہڑیانوالی اور گردونواح میں ساونڈ ماسٹر کا کام کرتا وہ مختلف تقریبات میں اپنا ساؤنڈ سسٹم لگاتا اور روزی کماتا تھا اسکی شادی کو 4 سال ہوئے تھے اور گھر میں بیوی اور بوڑھے والد کے ہمراہ رہتا تھا ، وقوعہ کے روز قیصر کی بیوی اسلام آباد میں تھی جہاںاسکے بھائی کا آپریشن تھا جب والد اپنی بیٹی کو ملنے گئے ہوئے تھے ، پیچھے ایک ہمسائے گھر کے دو نوجوان اسے بلا کر لے گئے کہ کچھ کام ہے ، قیصر دروازہ کھلا چھوڑ کر چلا گیا اور اسکے بعد کبھی واپس نہیں آیا ،اسلام آباد سے بیوی کال اور میسج کرتی رہی کوئی جواب نہ ملا ، والد دوسرے دن واپس آئے تو گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا اور بار بار کھٹکھٹانے پر بھی نہ کھلا تو ایک بچے کو چھت کے ذریعے مکان کے اندر داخل کیا گیا جس نے دروازہ کھولا تو سب یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہو گئے کہ اندر کوئی نہ تھا ، باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو گھر کی ایک کھڑکی کھلی پائی گئی ، ہر طرف خبر پھیل گئی قیصر کی دونوں بہنیں اپنے شوہروں کے ساتھ آگئیں ، قیصر کی بیوی بھی اسلام آباد سے واپس آگئی اور تلاش شروع ہوئی ہر طرف گمشدہ قیصر کو ڈھونڈا گیا اپنے رشتہ دار اسکے دوست سب کو پوچھا گیا مگر کہیں کوئی سراغ نہ ملا ، دوسرے یا تیسرے دن گھر والوں نے پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس نے روایتی سستی سے کام لیا اور واقعہ کو معمولی سمجھ کر گھر والوں کو انتظار کرنے کو کہا ، پانچ روز گزر گئے اور قیصر کا کوئی پتہ نہ چلا تو پولیس والوں نے درخواست درج کر لی مگر گھر کے چکر لگانے اور گھر والوں سے پوچھ گچھ کے علاوہ پولیس نے کچھ بھی نہ کیا ، یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا ، جب گھر والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو انہوں نے تھانے کے باہر اور ڈی پی او دفتر کے سامنے احتجاج کیا جسکے نتیجے میں پولیس نے گمشدہ قیصر کے موبائل کو ٹریس کیا اور سی ڈی آر نکلوائی تو مذکورہ محلے دار نوجوانوں کی نشاندہی ہوئی ، جب پولیس نے اس گھر سے 2 نوجوانوں کو گرفتار کیا اور تھانے لے گئی تو لتر پریڈ کے دوران انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے غیرت کے نام پر قیصر کو ق۔ت۔ل کیا ہے کیونکہ اسکے انکی کنواری بہن کے ساتھ کئی ماہ سے تعلقات تھے ، نہ بہن باز آرہی تھی اور نہ قیصر، اس لیے تنگ آکر انہوں نے اسے بہانے سے گھر سے بلایا اور ایک ویران ڈیرے پر لے جاکر اسکے سر میں ڈنڈوں کے وار کیے ، جب قیصر بے ہوش ہو گیا تو اسے چارپائی سے باندھ دیا اور خود صلاح مشورہ کے لیے قریبی اڈے پر برگر کھانے چلے گئے ، برگر کھا کر واپس آئے تو قیصر کو ق۔ت۔ل کرنے کا پلان بن چکا تھا انہوں نے قیصر کے گلے پر ایک ڈنڈا رکھا اور دونون بھائیوں نے ملکر اسے دبا کر مار ڈالا ۔۔۔ جب قیصر کی موت کا انہیں یقین ہوا تو رات کی تاریکی میں اپنے گھر کے ساتھ ایک خالی پلاٹ میں اسے گہرا گڑھا کھود کر دفنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قا۔تل بے فکر تھے کہ انکا جرم کبھی سامنے نہیں آئے گا لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ ق۔ت۔ل کبھی نہ کبھی بے نقاب ضرور ہوتا ہے ، یہاں پولیس کی بے حسی کا ذکر ضروری ہے کہ ایک شخص لاپتہ ہوا اور اس کیس پر 1 ماہ تک کارروائی نہ ہوئی جب تک کہ لواحقین چیخ نہ پڑے، اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو مق۔تول کے لواحقین کو شاید ایک ماہ تکلیف نہ سہنی پڑتی۔۔افسوس کہ ایک ماہ بعد گمشدہ قیصر ملا تو اس حال میں کہ اسکے جسم کو کیڑے مکوڑے کھا چکے تھے صرف ہڈیاں اور کپڑے باقی تھے اور پھر ان ہڈیوں کو کفن میں لپیٹ کر جنازے کے بعد سپردخاک کردیا گیا ۔۔۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیصر کیوں مارا گیا ، اسے ہوس لے ڈوبی ، موبائل فون کی سہولت دشمن بنی یا پھر والدین کی تربیت میں کوئی کمی ہر گئی تھی ؟؟؟




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *