pakistan

لاہور کی نرس کے رنگین و سنگین کارنامے

حسن کی کلاشنکوف کی رینج لاہور سے پشاور تک جا پہنچی چند روز قبل لاہور پولیس نے انتہائی مہارت سے اک ایل ایچ وی نرس اور اسکے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے نرس نے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی آئی ڈی لیڈی ڈاکٹر رانیہ فرضی نام سے بنا رکھی تھی محترمہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ یہ سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا کے نوجوان ڈھونڈتی انہیں فرینڈ بناتی پھر انہیں ویڈیو کال کے ذریعے اپنے حسن کے جلوے دکھاتی اور یہ ویڈیو کال ریکارڈ کر لی جاتی پہلے تو یہ نوجوان سے مختلف بہانوں سے پیسے آن لائن منگواتی جب دوسری جانب سے نوجوان پیسے دے دے کر تنگ آجاتا تو اسکے بعد رانیہ کے دوسرے دو ساتھیوں کی ڈیوٹی شروع ہو جاتی یہ ٹریپ شدہ نوجوان کو ڈراتے کی تمہاری نازیبا ویڈیو ہمارے پاس ہے 1 یا 2 لاکھ بھیجو ورنہ ویڈیو تمہارے گھر والوں کو بھیج دیگے یوں بلیک میل ہو کر کئی نوجوانوں نے لیڈی ڈاکٹر رانیہ کو پیسے بھجوائے انہی نوجوانوں میں سے اک پشاور کا نوجوان تھا جو لاہور میں یونیورسٹی آف لاہور میں زیر تعلیم تھا اسے بھی رانیہ کا دوست بننے اور ویڈیو کالز کا شرف حاصل ہوا لیکن یہ جلد بالمشافہ ملاقات کی ضد کرنے لگا یہ نوجوان 40 ہزار روپے رانیہ کو بھیج چکا تھا مگر وہ اس سے مزید پیسوں کا مطالبہ کررہی تھی اس دوران نرس کے ساتھیوں نے اس نوجوان کو پیغام بھیجا کہ 3 لاکھ روپے 2 دن میں بھیجو ورنہ تمہاری ویڈیو تمہارے والدین کو بھیج دیں گے یہاں اس نوجوان نے عقلمندی دکھائی اور بلا تاخیر ڈی آئی جی فیصل کامران کی کھلی کچہری میں پہنچ گیا ڈی آئی جی صاحب نے تمام حالات کا جائزہ لیا اور معاملے کو سنجیدہ دیکھ کر ایس پی حسین طارق کو یہ مشن سونپا کہ ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ کوئی شناختی کارڈ یا فون نمبر دستیاب نہیں تھا لہذا پولیس کے چند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں انہوں نے نرس سے سوشل میڈیا پر ہی گپ شپ کرکے لوکیشن کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی اس میں کچھ روز تو لگ گئے لیکن آخر کار پولیس ایل ایچ وی رانیہ اور اسکے ساتھی ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *