پردیس میں تنہا موت، دو دن بعد خبر ملی — جدہ میں پاکستانی محنت کش کے انتقال نے دل دہلا دیے

جدہ میں اکیلے انتقال کر گیا — دو دن بعد پتہ چلا — سردخانے میں پڑا ہے — اور فیملی کا جواب تھا “اب ہم کیا کریں”
سرگودھا کے محمد اجمل نے اپنی پوری زندگی پردیس میں گزاری۔ ہر ماہ گھر پیسے بھیجے۔ فیملی کو اچھی زندگی دینے کے لیے سعودی عرب میں جدہ میں محنت کرتا رہا۔ لیکن چند روز قبل اپنی رہائش گاہ پر قضائے الٰہی سے انتقال کر گیا۔ انتقال کا پتہ دو دن بعد چلا۔
جب جدہ میں موجود پاکستانیوں نے سرگودھا میں فیملی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ہوئی۔ جب رابطہ ہوا تو جواب یہ ملا کہ اب ہم کیا کریں — کہاں پاکستان اور کہاں سعودی عرب۔
وہ شخص جو ہر ماہ گھر پیسے بھیجتا تھا، جس کا رابطہ منقطع ہوا تو کوئی پریشان نہ ہوا، کوئی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں — آج وہ جدہ کے سردخانے میں پڑا ہے اور اس کی فیملی کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
یہ صرف محمد اجمل کی کہانی نہیں۔ پاکستان کے ہزاروں پردیسی اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر والے انہیں صرف پیسے بھیجنے والی مشین سمجھتے ہیں۔ جب تک پیسے آتے رہیں سب خوش، جب نہ آئیں یا حالت خراب ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
خدارا اپنے پردیسیوں کو صرف اے ٹی ایم مشین مت سمجھیں۔ وہ بھی انسان ہیں۔ وہ بھی بیمار ہوتے ہیں۔ وہ بھی تنہا ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنوں کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ کوئی صرف حال پوچھے۔
اللہ کریم محمد اجمل کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین
اگر آپ کا کوئی پیارا پردیس میں ہے تو آج ہی اسے فون کریں — نہ پیسوں کے لیے، نہ کام کی بات کے لیے — بس یہ پوچھیں کہ کیسا ہے۔ بس یہی کافی ہے۔
اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ محمد اجمل کی میت جلد از جلد وطن پہنچ سکے۔
