معشوقہ کے قتل کے بعد موبائل دریا میں پھینک دیے، مگر کال ریکارڈ نے راز فاش کر دیا

چند ماہ قبل پیش آنے والے ایک سنسنی خیز قتل کیس میں پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے ملزم کو گرفتار کر لیا، حالانکہ اسے یقین تھا کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایک شخص کے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ تعلقات تھے۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان معاملات خراب ہونے لگے اور مبینہ طور پر ملزم نے خاتون کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا لیا۔ واقعے کے بعد خاتون جان کی بازی ہار گئی جبکہ ملزم اس کا موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے بعد میں خاتون کے موبائل سے اس کے شوہر کو فون کر کے اطلاع دی کہ خاتون مردہ حالت میں پڑی ہے اور اس کی لاش کو سنبھال لیا جائے۔ اس کے بعد ملزم تقریباً 100 کلومیٹر دور جا کر اپنا اور خاتون دونوں کے موبائل فون دریا میں پھینک آیا تاکہ کسی قسم کا سراغ نہ مل سکے۔
تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کیں تو موبائل فون دستیاب نہ ہونے کے باوجود کال ریکارڈ حاصل کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مقتولہ کا ایک مخصوص شخص کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا تھا۔ اسی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور بالآخر مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ موبائل فون اس لیے تلف کیے تھے تاکہ وہ ٹریس نہ ہو سکے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے مقتولہ کے اہلِ خانہ کو اطلاع کیوں دی تو اس کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ لاش دیر تک لاوارث حالت میں پڑی رہے۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کے خلاف شواہد اکٹھے کر کے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر دیا، جہاں قانونی کارروائی کے بعد اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت عدالت میں جاری ہے۔
