لاہور: مبینہ بلیک میلنگ اور قتل کا واقعہ، 16 سالہ لڑکے کی کہانی سامنے آگئی

یہ کہانی کسی فلم کا سین نہیں، بلکہ لاہور کی سڑکوں پر بہنے والے اس سچے خون کی داستان ہے جس نے معاشرے اور غیرت کے تمام پیمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
لاہور کا رہائشی آغا سلطان المعروف ‘فری’ ابھی صرف 16 سال کا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اس کی بڑی بہن کے محلے کے ہی ایک ٹیلر ماسٹر ‘جیدے’ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کر، فری نے کمال پختگی کا مظاہرہ کیا اور خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنی بہن کا نکاح جیدے سے کروا کر اسے رخصت کر دیا۔ فری کا خیال تھا کہ نکاح کے بعد یہ درندہ شریف انسان بن جائے گا۔ مگر یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی!
نکاح کے بعد جیدے کا تکبر آسمان کو چھونے لگا اور چند ہی ہفتوں بعد اس کی ہوس بھری نظریں فری کی چھوٹی بہن (جو ابھی سکول جاتی تھی) پر پڑ گئیں۔ جب فری نے جیدے کے باپ سے اس کی شکایت کی، تو جیدے کے اندر کا شیطان جاگ اٹھا۔
اگلے روز جیدا، فری کو بہانے سے ایک فلیٹ پر لے گیا۔ اندر جاتے ہی دروازہ لاک ہوا۔ دو ہٹے کٹے درندوں نے 16 سالہ فری پر بے تحاشا تشدد کیا، خنجر کی نوک پر اس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کیا اور کیمرے سے تصویریں کھینچ لیں۔ پھر جیدے نے وہ زہریلا جملہ کہا جس نے فری کی روح چیر دی: “اگر تو چاہتا ہے کہ یہ تصویریں محلے کی دیواروں پر نہ لگیں… تو کل سے اپنی چھوٹی بہن کو سکول چھوڑنے کے بجائے سیدھا میرے اس فلیٹ پر لائے گا!”
فری اس نرغے سے تو نکل آیا، مگر اس کے سینے میں لاوا ابل رہا تھا۔ وہ ساری رات چھت پر جاگ کر روتا رہا۔ خودکشی کا سوچا، مگر ماں اور بہن کا چہرہ سامنے آ گیا۔ اگلی صبح اس نے بہن کو سکول جانے سے روک دیا۔
گلی میں آیا تو سامنے موت کا فرشتہ ‘جیدا’ کھڑا تھا۔ فری اسے بہانے سے ایک بند دکان کے تھڑے پر لے گیا اور کانپتے ہاتھوں سے پوچھا: “اوئے… تو آخر چاہتا کیا ہے؟” جواب میں جیدے نے تکبر سے 16 سالہ فری کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کر دیا۔ یہ تھپڑ فری کے گال پر نہیں، اس کی غیرت پر لگا تھا۔
فری کا صبر جواب دے گیا۔ وہ ایک بھوکے شیر کی طرح جیدے پر جھپٹا۔ ہاتھا پائی میں جیدے کی جیب سے گرا خنجر فری کے ہاتھ آ گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا فری کو آج تک یاد نہیں۔ جب اسے ہوش آیا تو جیدا خون میں لت پت دم توڑ چکا تھا۔
پولیس نے فری کو پکڑ لیا۔ تھانے میں فری روتا اور چیختا رہا: “مجھے مار ڈالو!” ایس ایچ او نے جب فری کی زبانی یہ دردناک کہانی سنی، تو پوری پولیس فورس میں سے کسی نے اس 16 سالہ لڑکے کو ایک تھپڑ تک نہیں مارا۔ عدالت سے سزائے موت ہوئی جو اپیلوں کے بعد کم ہوئی۔ ساڑھے نو (9.5) سال جیل کی اندھیری کوٹھریوں میں اپنی جوانی گالنے کے بعد، فری بالآخر رہا ہو گیا اور آج پرامن زندگی گزار رہا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے خود کو اس 16 سالہ لڑکے کی جگہ رکھ کر سوچیں۔۔۔ جس کی عزت تار تار کر دی گئی ہو، جس کی چھوٹی بہن کو ہوس کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہو۔۔۔ کیا غیرت کے نام پر فری کا یہ قدم درست تھا یا غلط؟ اگر آپ فری کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں!
