کھیتوں میں کام پر جانے والی یتیم لڑکی کی لاش زمین سے برآمد، اہلِ خانہ انصاف کے منتظر

عارف والا میں ایک نوجوان لڑکی کے قتل کے افسوسناک واقعے نے اہلِ علاقہ کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 18 سالہ لڑکی بچپن ہی میں والدین سے محروم ہو گئی تھی اور اس کی پرورش نانا نانی نے کی تھی۔ گھر کے حالات کے باعث وہ دیگر خواتین کے ساتھ کھیتوں میں مزدوری کیا کرتی تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق چند ہفتے قبل لڑکی کام کے سلسلے میں ایک زمیندار کے بلانے پر گئی، تاہم اس کے بعد واپس گھر نہ لوٹی۔ رات گئے تک واپسی نہ ہونے پر رشتہ داروں نے تلاش شروع کی اور متعلقہ افراد سے رابطہ کیا، لیکن لڑکی کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہ مل سکیں۔
ورثا کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاؤں کے معززین اور مقامی پنچایت کی مدد سے بھی کوشش کی، مگر معاملہ حل نہ ہو سکا۔ بعد ازاں پولیس سے رجوع کیا گیا جس پر اغوا کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ لڑکی کو قتل کرنے کے بعد لاش کو زمین میں دفن کر دیا گیا تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ایک زرعی رقبے سے بوری میں بند لاش برآمد کر لی گئی، جسے ضروری قانونی کارروائی کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
متوفیہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور فوری انصاف کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب متعلقہ ادارے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
علاقے کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں اور متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف ملنا چاہیے تاکہ قانون پر عوام کا اعتماد برقرار رہے
