World

ماں کے احسان کبھی نہیں اترتے — وقت صرف کردار بدل دیتا ہے

یہ کہانی ایک 48 سالہ بیٹے کی ہے جس کی بوڑھی ماں ‘ماریبیل’ کی ٹانگوں نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا۔ وہیل چیئر اور چار دیواری ماں کے لیے ایک قید خانہ بن گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے تلقین کی کہ انہیں گھر کے اندر محفوظ رکھیں، لیکن بیٹا روز دیکھتا تھا کہ اس کی ماں کھڑکی سے باہر راستوں کو اداس نظروں سے تکتی رہتی ہے—وہ جسمانی طور پر تو محفوظ تھی، مگر اندر ہی اندر زندگی سے دور ہو رہی تھی۔

ایک دن بیٹے سے ماں کی یہ خاموش اداسی نہ دیکھی گئی۔ اس نے اپنی ضعیف ماں کو بالکل ویسے ہی اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا، جیسے کبھی وہ اسے بچپن میں اٹھایا کرتی تھی۔ جب دروازہ کھلا، ہوا کا پہلا تازہ جھونکا ماں کے چہرے سے ٹکرایا اور دھوپ کی کرنیں اس پر پڑیں، تو ایک معجزہ ہوا۔ ماں کی مرجھائی ہوئی آنکھوں میں اچانک پرانی چمک لوٹ آئی، وہ مسکرانے لگی اور اس نے ڈھیروں باتیں شروع کر دیں۔

بیٹا نم آنکھوں سے کہتا ہے: “بچپن میں جب ہمارے پاس سواری نہیں ہوتی تھی، تو میری ماں مجھے میلوں تک اپنے تھکے ہوئے بازوؤں میں اٹھا کر چلتی تھی، مگر کبھی اس کے ماتھے پر شکن نہ آئی۔ آج قدرت نے ہمارے کردار بدل دیے ہیں۔ اب میں رات کو موسم اور راستے چیک کرتا ہوں تاکہ ماں کو باہر کی سیر کرا سکوں۔ یہ کوئی ہیرو بننے کا شوق نہیں، یہ بس اسے یہ احساس دلانے کی کوشش ہے کہ وہ آج بھی اس دنیا کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *