نیکی کا بدلہ قتل؟ کاہنہ میں بیوی اور آشنا کا لرزہ خیز واقعہ!

جس عورت کو اللہ کی رضا کے لیے سہارا دیا، اسی نے اس کا گھر اجاڑ دیا۔
کاہنہ کا یہ واقعہ انسانیت کو ہلا دینے والا ہے، جہاں رمضان نامی ایک شخص نے ثمینہ نامی طلاق یافتہ عورت پر ترس کھا کر اس سے شادی کی۔
سہاگ رات کو اس نے صرف ایک فرمائش کی:
“میں نے اللہ کی رضا کے لیے تم سے شادی کی ہے، اب تم ایسی بن کر دکھانا کہ مجھے اپنے فیصلے پر کبھی شرمندگی نہ ہو”
مگر افسوس کہ جس گھر کی بنیاد خلوص پر رکھی گئی تھی، اسے بعد میں اپنوں ہی کی بے وفائی کا سامنا کرنا پڑا۔
ثمینہ کے چچا زاد بھائی بلال کی گھر میں آمد اور رمضان کی حد سے زیادہ سادگی نے وہ صورتحال پیدا کی، جس نے ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا۔
بلال نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا اور ثمینہ کے ساتھ قریبی تعلق میں آ کر رمضان پر طلاق دینے کا دباؤ ڈالنے لگا۔
مگر جب رمضان اپنی ننھی بیٹی کی خاطر ڈٹا رہا، تو مبینہ طور پر دونوں نے مل کر اسے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔
بلال نے مبینہ طور پر دھوکے سے رمضان کو ایک ویران جگہ پر لے جا کر چھری کے وار سے شدید زخمی کر دیا۔
جب رمضان آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا، تب بھی اس کی بیوی مسلسل اپنے آشنا سے رابطے میں رہی۔
لیکن پولیس کی جدید تفتیش اور سی ڈی آر (CDR) رپورٹ نے اس معاملے کے اہم پہلو سامنے لا دیے، اور آج دونوں ملزمان سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ اندھا اعتماد کبھی کبھی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
کاش رمضان پہلے ہی حقیقت سمجھ لیتا تو آج کم از کم اس کی معصوم بچی کے سر پر باپ کا سایہ تو ہوتا۔
اس واقعے کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ آگاہی بڑھے۔
اور کمنٹس میں اپنی رائے دیں کہ ایسے واقعات کی کیا سزا ہونی چاہیے؟
