pakistan

ڈاکٹر مہوش کا مریض کو باہر بیٹھنے کا کہنا موت کا سبب بن گیا

ڈاکٹر مہوش کو صرف اس بات پر سات گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک شخص سے مؤدبانہ انداز میں کہا تھا:
“یہ خواتین کا چیک اَپ ایریا ہے، آپ براہِ کرم باہر مردوں کی انتظار گاہ میں اپنی مریضہ کا انتظار کریں۔ چیک اپ مکمل ہونے کے بعد وہ خود باہر آ جائیں گی۔”
کیا یہی صلہ ہے پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانے کا؟
لوگ اپنی مریضہ کے لیے خاتون ڈاکٹر کا مطالبہ تو کرتے ہیں —
لیکن کیا وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خاتون ڈاکٹر بھی کسی کی بیٹی، بہن اور عزت ہوتی ہے؟
اگر ڈاکٹرز کو اسپتال کے اندر بھی تحفظ حاصل نہیں تو پھر یہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *