ڈاکٹر مہوش کا مریض کو باہر بیٹھنے کا کہنا موت کا سبب بن گیا

ڈاکٹر مہوش کو صرف اس بات پر سات گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک شخص سے مؤدبانہ انداز میں کہا تھا:
“یہ خواتین کا چیک اَپ ایریا ہے، آپ براہِ کرم باہر مردوں کی انتظار گاہ میں اپنی مریضہ کا انتظار کریں۔ چیک اپ مکمل ہونے کے بعد وہ خود باہر آ جائیں گی۔”
کیا یہی صلہ ہے پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانے کا؟
لوگ اپنی مریضہ کے لیے خاتون ڈاکٹر کا مطالبہ تو کرتے ہیں —
لیکن کیا وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خاتون ڈاکٹر بھی کسی کی بیٹی، بہن اور عزت ہوتی ہے؟
اگر ڈاکٹرز کو اسپتال کے اندر بھی تحفظ حاصل نہیں تو پھر یہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
