خدارا بیٹیوں کی شادی ایسےشیطانی صفت مرد سے مت کرو

سہاگ رات کو نئی نویلی دلہن کا ازدواجی فرض ادا کرنے سے انکار 7 دن کی دلہن کو شوہر نے قتل کر ڈالا لاہور کے علاقہ سندر میں چند سال قبل پیش آیا واقعہ زبردستی کی شادی لڑکی کی جان لے گئی مریم اک پڑھی لکھی لڑکی تھی لاہور میں جاب کرتی تھی قتل سے تین سال پہلے مریم اورعظیم کا نکاح ہوا اور جب شادی ہوئی تو بقول عظیم اسکی بیوی سہاگ رات کو اسکے تعلق میں نہیں آئی اس نے ازدواجی فریضہ ادا نہیں کیا عظیم خاموش ہو گیا کہ کوئی مسئلہ ہوگا دوسری اور تیسری رات پھر مریم نے اسے قریب آنے سے روک دیا تو عظیم نے بہلا پھسلا کر اس سے اندر کی کہانی پوچھ لی لڑکی کے بقول وہ کسی سے پیار کرتی ہے اور اسکے علاوہ کوئی اسکے جسم کو نہیں چھو سکتا عظیم نے پوچھا کہ تم نے شادی کیوں کی تو مریم نے جواب دیا کہ گھر والوں کے سامنے مجبور تھی ، تم میرے ساتھ مہربانی کرو ، کسی کو کچھ نہ بتاؤ ہم بظاہر میاں بیوی رہیں گے لیکن تم مجھے کبھی چھونے کی کوشش نہ کرنا قتل کی رات ملزم عظیم نے مریم سے اسکے عاشق کا نام اگلوانے کی کوشش کی تو دونوں میں جھگڑا ہو گیا ملزم کے مطابق وہ چھری سے اسے ڈرا کر نام پوچھنا چاہتا تھا مگر اس نے سخت مزاحمت کی اس دوران چھری اسکی گردن پر پھر گئی اور خو۔ن بہنا شروع ہو گیا یہ حالات دیکھ کر ملزم عظیم گھبرا گیا اس نے شور مچا دیا کہ چور آئے تھے مزاحمت پر اسکی بیوی کا گلا کاٹ گئے ہیں گھر والے اکٹھے ہوگئے ایمبولینس بلائی گئی اور 15 پر کال کی گئی مگر اس دوران مریم انتقال کر چکی تھی پولیس نے حالات کو مشکوک جان کر ملزم عظیم کو حراست میں لیا اور تھانے لے گئے جہاں اس نے سچ اگل دیا اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیا دوسری جانب مقتولہ مریم کی والدہ نے الزام لگایا کہ میری بیٹی کی کسی سے دوستی تھی اور نہ عشق تھا ہم نے شادی کی تو جہیز نہیں دیا بلکہ 8 لاکھ روپے نقد دیے تھے وہ شادی سے بہت خوش تھی اللہ جانے ملزم کے دل میں کیا آیا کہ اس نے اپنی نئی نویلی دلہن کو قتل کردیا بعد میں پولیس کی تفتیش میں یہی بات سامنے آئی تھی کہ ملزم نے ازدواجی فرائض ادا کرنے سے انکار اور بیوی کے معاشقے پر غصے میں آکر یہ قتل کیا تھا افسوس اس بات کا ہے کہ ملزم عظیم ایlک پڑھا لکھا انسان تھا، وہ چاہتا تو شعور سے کام لیتا بیوی کو طلاق دے دیتا تو اسکی زندگی بھی بچ جاتی اور خود عظیم ساری زندگی جیل میں سڑنے سے بھی بچ جاتا
