خودکشی کے دہانے سے عالمی کامیابی تک: ایک ملازم کی وفاداری نے تاریخ کا رخ بدل دیا

رات کے 2 بج رہے تھے۔ چھت کے کنڈے سے موت کا پھندا لٹک رہا تھا۔ 18 سالہ نوجوان نے رسی گلے میں ڈالی، آنکھیں بند کیں اور کرسی کو لات مارنے ہی والا تھا کہ… دروازے پر ایک زور دار دستک ہوئی!
یہ نوجوان چیکو سلواکیہ کا تھا، جس نے خواب دیکھا تھا کہ دنیا کا ہر انسان اس کے بنائے ہوئے جوتے پہنے گا۔ اس نے 200 کراؤن اور 10 غریب ملازموں کے ساتھ ایک چھوٹی سی ورکشاپ کھولی۔ لیکن بڑی کمپنیوں کی سازشوں اور قرض نے اسے کچل کر رکھ دیا۔ مشینیں بک گئیں۔ آخری ملازم بھی بھوکے بچوں کی دہائی دے کر چلا گیا۔
وہ نوجوان خود کو ان 10 گھروں کا قاتل سمجھ کر خودکشی کرنے لگا تھا کہ دروازہ بجا۔ اس نے پھندا گلے سے نکالا اور دروازہ کھولا، تو سامنے اس کا آخری اور سب سے غریب ملازم ‘جان’ کھڑا تھا۔ وہ بخار سے کانپ رہا تھا۔
مالک کو لگا کہ جان اپنی رکی ہوئی تنخواہ مانگنے آیا ہے۔ لیکن جان نے کانپتے ہاتھوں سے ایک میلی سی پوٹلی میز پر رکھی اور کھول دی۔ اس میں تانبے کے چند سکے اور چاندی کی ایک سستی سی انگوٹھی تھی۔
“صاحب… یہ 187 کراؤن ہیں۔ میری بیوی نے اپنی شادی کی اکلوتی انگوٹھی بیچ دی ہے اور کہا ہے کہ صاحب کو ہارنے مت دینا!”
مالک کی چیخ نکل گئی: “پاگل ہو گئے ہو جان؟ تمہاری بیوی بیمار ہے، بچے بھوکے ہیں، اور تم…”
تب اس بیمار ملازم نے اس 18 سالہ لڑکے کے پاؤں پکڑ لیے اور ایسا جملہ کہا جس نے تاریخ بدل دی: “صاحب! جب میں سڑک پر جوتے پالش کرتا تھا، تو لوگ مجھے دھکے دیتے تھے۔ آپ نے مجھے کرسی پر بٹھایا، مجھے موچی نہیں بلکہ ‘کاریگر’ کہہ کر عزت دی۔ اگر آج آپ مر گئے تو میرے جیسے لاکھوں غریب پھر سڑک پر رل جائیں گے۔ یہ پیسے رکھیں، میں ساری زندگی مفت کام کروں گا، بس وعدہ کریں کہ آپ موت سے ہار نہیں مانیں گے!”
اس رات مالک نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ اگلی صبح اسی 187 کراؤن سے چمڑا آیا۔ جان بخار میں تپتا ہوا مشین چلاتا، اور مالک رات کو اسے دوائی پلاتا اور جوتے سیتا۔
پھر دنیا نے ایک ایسا معجزہ دیکھا جس کی مثال نہیں ملتی!
کچھ ہی سالوں میں وہ 18 سال کا لڑکا دنیا کا سب سے بڑا جوتا ساز بن گیا۔ اس کی دکانیں 70 ملکوں میں پھیل گئیں اور لاکھوں لوگ اس کے ہاں نوکری کرنے لگے۔
کیا آپ جانتے ہیں وہ 18 سالہ لڑکا کون تھا؟ وہ دنیا کے مشہور ترین برانڈ ‘باٹا’ (BATA) کا بانی، تھامس باٹا تھا!
1932 میں جب تھامس کا ہوائی جہاز کریش ہوا اور وہ دنیا سے چلا گیا، تب بھی اس کے عالی شان دفتر میں کرسی کے پیچھے، شیشے کے فریم میں پہلا جوتا اور 187 کراؤن رکھے تھے۔ جس کے نیچے لکھا تھا:
“یہ سلطنت پیسے سے نہیں… ایک غریب ملازم کی وفا سے بنی ہے۔”
