افسوس ناک گینگ ریپ لاہور کے علاقہ گجرپوررہ میں

افسوس ناک گینگ ریپ لاہور کے علاقہ گجرپوررہ میں
اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ اب بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔
وہ بار بار اللہ کا واسطہ دیتی رہی، رحم کی بھیک مانگتی رہی، منتیں کرتی رہی، مگر درندوں کے دلوں میں انسانیت کی ایک چنگاری بھی نہ جاگی۔
لاہور کے علاقے گجرپورہ میں اینٹوں کے بھٹے پر محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والی ایک بے بس خاتون کو تین اوباش نوجوان زبردستی کھیتوں میں لے گئے۔ وہاں نہ صرف اس کی عزت پامال کی گئی بلکہ اس ظلم کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ وہ ویڈیو جس میں ایک مجبور ماں کی سسکیاں، اس کی لرزتی ہوئی آواز اور اس کی بے بسی صاف سنائی دیتی ہے۔
میں نے وہ ویڈیو دیکھی ہے۔
میں اسے سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ صرف ایک ویڈیو نہیں بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
وہ خاتون بار بار کہتی ہے:
“اللہ کے واسطے مجھے چھوڑ دو۔”
اس کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں، ہونٹ کپکپا رہے ہوتے ہیں، مگر درندے اپنی ہوس کے نشے میں مست رہتے ہیں۔ ظلم کے بعد اسے یہ دھمکی بھی دی جاتی ہے کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو ریپ کے دوران بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائے گی۔
بعد ازاں جب ایک خاتون صحافی نے متاثرہ خاتون سے گفتگو کی تو اس نے ایک ایسا جملہ کہا جو پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اس نے کہا:
“میں کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی، میں انہیں معاف کرنا چاہتی ہوں۔”
یہ معافی نہیں تھی۔
یہ ایک مجبور عورت کی بے بسی تھی۔
یہ اس نظام پر عدم اعتماد تھا جہاں غریب آدمی انصاف کی جنگ لڑنے سے پہلے ہی خود کو ہارا ہوا محسوس کرتا ہے۔
اس کی گود میں ایک معصوم بچہ تھا، شاید ایک یا ڈیڑھ سال کا۔
وہ کہہ رہی تھی:
“میری عزت واپس نہیں آ سکتی۔”
اور پھر اس نے وہ جملہ کہا جو دل چیر کر رکھ دیتا ہے:
“میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔”
اس کا شوہر ذہنی طور پر معذور ہے۔
اس کے پاس دولت نہیں، اثر و رسوخ نہیں، کوئی سیاسی طاقت نہیں۔
وہ صرف ایک غریب مزدور عورت ہے۔
شاید اسی لیے اسے یقین نہیں کہ کوئی اس کے لیے کھڑا ہوگا۔
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ممکن ہے ملزمان گرفتار بھی ہو جائیں اور قانون اپنی کارروائی مکمل کرے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاتون اپنے مقدمے کی پیروی کر پائے گی؟
کیا وہ دھمکیوں، خوف اور غربت کے سامنے ڈٹی رہ سکے گی؟
یا پھر کل کو یہی درندے خاموشی کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ آزاد گھوم رہے ہوں گے؟
این اے 120 اور پی پی 151 کے منتخب عوامی نمائندوں سے گزارش ہے کہ اگر واقعی عوام کے ووٹ کی طاقت پر اسمبلیوں تک پہنچے ہیں تو اس بے سہارا خاتون کے ساتھ کھڑے ہوں۔
شاید اس کا ووٹ آپ کے حق میں نہ پڑا ہو۔
شاید اسے ووٹ کی اہمیت کا بھی علم نہ ہو۔
مگر وہ اسی حلقے کی ایک بیٹی ہے، اور آج اسے سہارے کی ضرورت ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔
چند برس قبل گجرپورہ کی حدود میں سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کیس میں ملزمان کو سزا ملی اور بعد ازاں ان کی اپیلیں بھی مسترد ہو گئیں۔
معاشرے نے اس فیصلے کو سراہا کیونکہ ایسے درندوں کے لیے سخت سزا ہی واحد راستہ ہے۔
کچھ عرصہ قبل مناواں کے علاقے میں ایک ذہنی طور پر معذور خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا جس میں ایک وردی پوش پولیس اہلکار ملوث پایا گیا۔
اور آج پھر اسی خطے سے ایک اور دل دہلا دینے والی داستان سامنے آئی ہے۔
آخر کیوں؟
آخر کیوں اس علاقے کی سڑکیں، کھیت، ویرانے اور گزرگاہیں عورتوں کے لیے خوف کی علامت بنتی جا رہی ہیں؟
آخر کیوں ایسے سفاک ملزمان قانون، معاشرے اور خدا کے خوف سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں؟
یہ خوف قائم رہنا چاہیے۔
یہ خوف زندہ رہنا چاہیے۔
ایسا خوف کہ کسی درندے کی جرات نہ ہو کہ وہ کسی بے بس عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنائے۔
ایسا خوف کہ کوئی ملزم ظلم کی ویڈیو بنانے سے پہلے اپنے انجام کو یاد کرے۔
اور ایسا خوف کہ کسی ماں، بہن یا بیٹی کو یہ نہ کہنا پڑے:
“میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔”
کیونکہ جب ایک مظلوم عورت یہ جملہ بولتی ہے تو درحقیقت پورا معاشرہ اس کے ساتھ کھڑا ہونے میں ناکام ہو چکا ہوتا ہے۔
