میر پور خاص میں اپنی جان لینے والی طالبہ

وہ ایک عرصے سے میرپورخاص کے ایک فارماسسٹ اور تین دیگر طلبہ کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھی…
وہ رو رو کر اپنی بہنوں اور ماں کو بتاتی رہی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، مگر افسوس کہ ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال رہا تھا۔
آخرکار ڈاکٹر فہمیدہ لغاری تھک گئی… وہ بھی ایک لڑکی تھی، ہمت ہار گئی… اور گھر آ کر اپنی جان دے دی۔
یہ واقعہ سندھ کے ایک معروف میڈیکل کالج میں پیش آیا، جہاں تھرڈ ایئر کی ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ اپنے ہزاروں خوابوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی تھی، مگر اسی ادارے کے ایک فارماسسٹ اور تین طلبہ کی گندی نظروں کا شکار بن گئی۔
وہ مسلسل ہراساں ہوتی رہی، انصاف کے لیے در در بھٹکتی رہی… مگر جب کوئی راستہ نہ ملا تو اس نے اپنی زندگی ہی ختم کر دی۔
یہ صرف ایک لڑکی کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ ہے—جہاں متاثر لوگ آواز اٹھانے سے پہلےہی خاموش کر دیے جاتے ہیں

۔
ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، مگر اب تک ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا انصاف صرف وڈیروں کے لئےہے؟
کیا بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں؟
کیا غریبوں کو انصاف ملنا ناممکن ہے؟؟
کیا یہ پاکستان صرف وڈیروں کا طاقت وروں کا اور طاقت ور لوگوں کے پالتوؤں کا ہے ؟؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب فہمیدہ کی آواز بنیں، تاکہ کسی اور بیٹی کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
پرچے کی کاپی پہلےکمنٹ میں موجود ہے
