pakistan

دلیر خاتون سدرہ نے گھر سے بھاگی لڑکی کی عزت کیسے بچائی

گھر سے بھاگی ہوئی ایک بچی سدرہ سعید بندیشہ کے ڈیرے پر پہنچی تو اسکے بعد کیا واقعہ پیش آیا تھا ۔۔۔۔ باجی سدرہ اپنے بزرگوں کی وراثت کی امین ثابت ۔۔۔۔ یہ 2 سال پرانا واقعہ ہے ، سدرہ سعید بندیشہ کے علاقہ کا ایک شخص کسی دوسرے شہر سے واپس فیصل آباد آرہا تھا ، بس میں اسکے ساتھ سیٹ پر ایک چھوٹی سی بچی بیٹھی تھی ، کنڈیکٹر نے آکر کرایہ مانگا تو بچی بولی میرے پاس پیسے نہٰیں ہیں ، اس پر کنڈیکٹر اسے برا بھلا کہنے لگا اور بچی کا بازو پکڑ کر اسے بس سے اتارنا چاہا تو اس شخص نے کنڈیکٹر کا ہاتھ پکڑ کر جھٹک دیا اور بچی کا کرایہ دے دیا ، اس شخص نے پیار سے بچی سے پوچھا کون ہو اور کہاں سے آئی ہو ۔۔۔ پتہ چلا کہ بچی اپنے باپ کی مارپیٹ سے تنگ آکر گھر سے بھاگ آئی تھی اور اب نامعلوم منزل کی طرف جارہی تھی اس نیک دل شخص نے کچھ سوچا اور پھر بچی کو لے کر گھر آگیا ، رات بچی نےاس شخص کے بچوں کے ساتھ گزاری اور دوسرے روز یہ شخص بچی کو لے کر سدرہ سعید بندیشہ کے ڈیرے پر آگیا ، سدرہ سعید نے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا ، سارا دن بچی انکے ساتھ رہی ، اس دوران انہوں نے اپنے لوگوں کو کہہ کر بچی کے والد سے رابطہ کرلیا اور اسے فوری طور پر فیصل آباد پہنچنے کو کہا ، رات کے 12 بجے بچی کا والد سدرہ سعید کے ڈیرہ پر پہنچا اسے کھانا کھلایا گیا ، سدرہ سعید اس وقت تک جاگ رہی تھیں انہوں نے بچی کو کہا والد کے ساتھ چلی جاؤ تو اس نے انکار کردیا اسکے بعد سدرہ سعید بندیشہ نے پیار سے بچی کو سمجھایا اور سختی کے ساتھ اسکے والد کو تاکید کی کہ بچی تنگ آکر گھر سے بھاگی ہے اگر اسے پیار سے خود منالو تو ٹھیک ورنہ یہ ہمارے پاس رہے گی میں اسے اپنی بیٹی بنا لونگی ، اس پر والد نے بچی کو گود میں بٹھایا پیار سے منایا جب بچی مطمئن ہو گئی اور والد کے ساتھ ہنس کر باتیں کرنے لگی تو سدرہ سعید بندیشہ نے بچی کے والد کو کرایہ دے کر بچی سمیت روانہ کردیا ، ساتھ تاکید بھی کہ ہم خبر رکھیں گے اب مثالی والد بن کر بچی کی پرورش کرنا ۔۔۔۔۔ وہ بچی آج کل اپنے گھر میں خوش وخرم والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔۔۔ اللہ کریم سدرہ سعید بندیشہ اور انکے ڈیرے والوں کی اس نیکی کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *