جس جیلے کو کل تک کوئی پکڑ نہیں پا رہا تھا، آج وہ بند شٹر کے باہر ہاتھ جوڑ کر رو پڑا

“جس جیلے کو کل تک کوئی پکڑ نہیں پا رہا تھا، آج وہ بند شٹر کے باہر ہاتھ جوڑ کر رو پڑا!” ٹک ٹاک کی جھوٹی شہرت نے مشہور ‘جیلا فوڈ پوائنٹ’ کو کیسے کھا لیا؟
ایک وقت تھا جب ‘جیلا فوڈ پوائنٹ’ پر ایک پلیٹ کھانے کے لیے لوگ آدھا آدھا گھنٹہ لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے تھے۔ اس کے ہاتھوں میں ذائقہ تھا اور رزق میں برکت تھی، کیونکہ جیلے کی ساری توجہ صرف اپنی محنت اور کوالٹی پر تھی۔
پھر اس کی دکان پر سوشل میڈیا اور ٹک ٹاکرز کی نظر پڑ گئی!
(عروج سے زوال کا وہ بھیانک لمحہ):
کہتے ہیں جس رات جیلے نے اپنے ہاتھوں سے اپنی 18 سالہ محنت کے شٹر پر آخری تالا لگایا، تو وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے شٹر کو چوما اور بولا: “یہ تالا میری دکان پر نہیں، میری سانسوں پر لگا ہے۔” جن نام نہاد ٹک ٹاکرز نے اسے کیمرے کے سامنے اچھل کود کروا کر ‘جیلا نہیں پھڑیا جا ریا’ کے نعرے لگوائے تھے، دکان بند ہونے کی رات ان میں سے ایک بھی اسے دلاسہ دینے کے لیے موجود نہیں تھا!
جیسے ہی جیلا سوشل میڈیا کی چکاچوند کا شکار ہوا، اس کے اندر تکبر آ گیا۔ “جیلا ایک برانڈ ہے، جیلے کا کوئی جوڑ نہیں” جیسے بڑے بولوں نے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی۔ کیمرے اور ویوز کے چکر میں سارا فوکس ڈرامے پر آ گیا، اور کھانے کا ذائقہ بالکل مر گیا۔
پھر قدرت کا مکافاتِ عمل شروع ہوا! جن ٹک ٹاکرز نے چند ویوز کے لیے اسے آسمان پر بٹھایا تھا، جب وہاں سے ویوز آنا بند ہوئے تو انہوں نے اسی جیلے کو ‘ہارٹ اٹیک بیچنے والے’ اور ‘بے ذائقہ کھانے’ کا طعنہ دے کر زمین پر پٹخ دیا۔ کل تک غرور میں اڑنے والا جیلا آخر میں ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتا رہا کہ “کسٹمرز ایک بار واپس آ جائیں، سب گلے شکوے دور کروں گا”، لیکن جب قدرت برکت اٹھا لیتی ہے تو گاہک کا دل بھی پھیر دیتی ہے۔
