پیٹرول 225 روپے لیٹر

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت کم کر کے 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے کرائے اور کھانے پینے سمیت ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی سابقہ سطح پر واپس لائی جائیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کو فوری طور پر 28 فروری کی سطح پر لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا ہے تاہم عوام پر مجموعی مالی بوجھ بڑھنے سے بچانے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اسی تناسب سے ڈھائی روپے فی لیٹر کمی بھی کر دی گئی ہے۔
وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافے اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کا اطلاق 2 جولائی سے ہوگا۔
