ایک بیٹے کی رلا دینے والی داستان جس نے ماں کو بچاتے بچاتے اپنی جان دے دی

سرگودھا کے نوجوان طالب علم ‘عمر فاروق باجوہ’ کی والدہ جگر کے جان لیوا مرض میں مبتلا تھیں۔ جب ڈاکٹروں نے آخری امید ‘لیور ٹرانسپلانٹ’ بتائی، تو اس عظیم بیٹے نے بغیر سوچے اپنا جگر ماں کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیخ زاید ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں جاتے وقت اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، بلکہ ماں کا قرض چکانے کا سکون تھا۔
لیکن پھر قدرت کا ایسا فیصلہ آیا جس نے ہزاروں دل چیر کر رکھ دیے!
آپریشن کامیاب رہا، ماں کے جسم میں بیٹے کا جگر دھڑکنے لگا، مگر بدقسمتی سے سرجری کی پیچیدگیوں کے باعث یہ ہنستا کھیلتا نوجوان ہسپتال کے اسی بستر پر تڑپ کر اپنی جان کی بازی ہار گیا۔
ذرا سوچیں، جب وہ ماں ہوش میں آ کر اپنے اس بیٹے کو پکارے گی تو اس کے دل پر کیا قیامت گزرے گی؟ عمر فاروق کی اس بے لوث قربانی نے محبت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جسے دنیا مدتوں نہیں بھلا پائے گی۔
اللہ پاک اس عظیم ہیرو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور ماں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
