سعودی عرب میں نوجوان پر مبینہ ظلم، ایلومینیم فکسر ویزے پر لے جانے کا الزام

سعودی عرب میں ایک پاکستانی نوجوان کی مبینہ زیادتی اور استحصال سے متعلق ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان نے ویڈیو میں اپنا نام ظاہر نہیں کیا اور روتے ہوئے بتایا کہ اسے ایلومینیم فکسر اور پینٹر کے ویزے پر مبینہ طور پر 7 لاکھ روپے کے عوض سعودی عرب بھیجا گیا۔
نوجوان کے مطابق وہ چک ہمبو کا رہائشی ہے اور اسے “مطلوب بھولاں والا” نامی شخص کے ذریعے بیرون ملک بھجوایا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہاں پہنچنے کے بعد جن افراد کے پاس وہ کام کر رہا ہے، وہ اس سے سخت ناروا سلوک کرتے ہیں، نہ اقامہ دیا گیا ہے اور نہ ہی باقاعدہ سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
نوجوان کے مطابق اسے اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، معمولی بات پر تھپڑ اور لاتیں ماری جاتی ہیں، اور بعض اوقات کھانے کے لیے بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ اس نے بتایا کہ ایک واقعے میں اس کے کان پر شدید چوٹ لگی جبکہ ایک اور موقع پر اسے سیڑھیوں سے دھکا دیا گیا جس سے ٹانگ پر بھی چوٹ آئی۔
ویڈیو میں نوجوان انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ چکا ہے اور اسے اپنی زندگی ختم کرنے جیسے خیالات آ رہے ہیں۔ اس نے اپنی مبینہ موت کی صورت میں ذمہ داری بھی متعلقہ افراد پر ڈالی ہے۔
نوجوان نے اپیل کی ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی اس کی مدد کریں اور جن افراد کے پاس وہ کام کر رہا ہے ان کے مبینہ چنگل سے اسے آزاد کروایا جائے۔
(یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں۔)
