عنوان:ملتان واقعہ… ایک ماں کی فریاد نے سب کو خاموش کر دیا

ملتان کے اس گنجان بازار میں ایک زوردار آواز آئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک غریب پھل فروش کی کل کائنات گندی نالی میں بہہ رہی تھی۔ صبح کے نو بجے تھے، جب ڈپٹی کمشنر کی گاڑی وہاں رکی اور ناجائز تجاوزات کے نام پر اس غریب کی ریڑھی کو الٹا دیا گیا۔ وہ بیٹا، جو سارا دن دھوپ میں کھڑے ہو کر چند سو روپے کماتا تھا، اپنے خوابوں کو کیچڑ میں ملتا دیکھ کر وہیں ڈھیر ہو گیا۔ وہ روتا ہوا گھر پہنچا اور اپنی بوڑھی ماں کے گلے لگ کر سسکیاں لینے لگا، “ماں! صاحب نے میرا پھل نالی میں پھینک دیا، اب ہم قرض کیسے اتاریں گے؟”
ماں نے بیٹے کے آنسو دیکھے تو اس کی ممتا تڑپ اٹھی۔ اس نے خاموشی سے اپنی پرانی چادر اوڑھی اور سیدھی ڈی سی آفس پہنچ گئی۔ وہاں کے چمکتے ہوئے فرش اور ٹھنڈے کمروں میں اس بوڑھی عورت کا وجود سب کو کھٹک رہا تھا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور دفتر کے عین سامنے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کا مطالبہ بہت چھوٹا مگر حاکمِ وقت کے لیے بہت بھاری تھا؛ اس نے کہا، “جب تک صاحب میرے بیٹے سے معافی نہیں مانگیں گے، میں یہاں سے نہیں اٹھوں گی۔”
جب شور بڑھا اور ڈی سی صاحب غصے میں باہر آئے تو انہوں نے کڑک کر پوچھا، “بڑھیا! تمہیں پتا ہے تم کس کے سامنے کھڑی ہو؟ میں اس شہر کا حاکم ہوں!” ماں نے جرات سے ان کی آنکھوں میں جھانکا اور سکون سے بولی، “صاحب! تم شہر کے حاکم ہو گے، مگر تم نے میرے بیٹے کا رزق نالی میں پھینک کر اسے جو ذلت دی ہے، اس کے لیے تمہیں اللہ کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔ میرا بیٹا غریب ضرور ہے، مگر اس کی عزتِ نفس تمہاری اس کرسی سے بڑی ہے۔”
پورے مجمعے میں سناٹا چھا گیا، کیونکہ ایک ماں کی پکار نے اقتدار کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔ اس دن صاحب کو سمجھ آیا کہ طاقت صرف تجاوزات ہٹانے کے لیے نہیں، بلکہ کمزوروں کا مان رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ سچ ہے کہ جب حکمرانوں کی انا غریب کے رزق سے ٹکراتی ہے، تو جیت ہمیشہ ایک ماں کے سچے آنسوؤں کی ہوتی ہے۔
