واقعہ بظاہر ایک و.حشیانہ ڈکیتی تھا، لیکن جب پولیس نے سچائی کی تہوں کو کریدا تو حقیقت بھیا.نک

واقعہ بظاہر ایک وحشیانہ ڈکیتی تھا، لیکن جب پولیس نے سچائی کی تہوں کو کریدا تو حقیقت بھیانک تھی۔
اس کے شوہر کو اس کے سامنے لٹیروں نے مار دیا اور سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
یہ وہ لرزہ خیز داستان تھی جس سے سننے والوں کے کلیجے منہ کو آ گئے۔ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں ہونے والا یہ واقعہ بظاہر ایک وحشیانہ ڈکیتی تھا، لیکن جب پولیس نے سچائی کی تہوں کو کریدا تو حقیقت بھیانک تھی۔
کویتا نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ آدھی رات کو لٹیرے گھر میں گھسے، اسے رسیوں سے باندھ کر ایک کونے میں ڈال دیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے شوہر (سبھاش) کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کی دھاڑیں اور چیخیں اتنی پر اثر تھیں کہ پورا علاقہ اس کی ہمدردی میں کھڑا ہو گیا۔
پولیس کو شک تب ہوا جب گھر کے معائنے کے دوران ڈکیتی کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ تفتیش کے دوران زیورات اور نقدی،ہ جن کے بارے میں خاتون نے کہا کہ لٹیرے لے گئے، وہ تلاشی کے دوران اسی کے کمرے سے برآمد ہو گئے۔
خاتون کے موبائل ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے آشنا (Lover) کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی اور قتل کی رات بھی ان کے درمیان طویل گفتگو ہوئی تھی۔
پولیس کی روایتی پوچھ گچھ کے سامنے ملزمہ کی اداکاری زیادہ دیر نہ چل سکی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے شوہر کو راستے سے ہٹا کر اپنے آشنا کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے 1 لاکھ روپے میں ایک کنٹریکٹ کلر (کرائے کا قاتل) ہائر کیا۔ قتل کے بعد اس نے خود ہی گھر کا سامان بکھیر دیا اور خود کو رسیوں سے جکڑ لیا تاکہ اسے ڈکیتی ثابت کر سکے۔
پولیس نے خاتون، اس کے آشنا اور قاتل کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہ عورت جو ایک مظلوم بیوہ بن کر دنیا کی ہمدردیاں سمیٹ رہی تھی، اب ایک سفاک مجرمہ کے طور پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کا انتظار کر رہی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کوئی اپنے ہی سہاگ کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اتنی بے مثال اداکاری کر سکتا ہے کہ قانون بھی ایک پل کے لیے چکرا جائے؟
