pakistan

عدالت، زمین اور قتل: کراچی کی ایک سچی کہانی

کراچی کے ایک بااثر سیاستدان کے بیٹے کو قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ مقتول کے گھر والے کسی صورت صلح پر تیار نہیں تھے اور دولت کی ہر پیشکش ٹھکرا دی گئی تھی۔ جب تمام قانونی راستے بند ہو گئے تو سیاستدان نے ایک شاطر وکیل کے ذریعے جج سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بیٹے کو بچانا چاہتا ہے۔

وکیل نے ایک عجیب و غریب منصوبہ بنایا۔ جس زمین پر جیل کا وہ حصہ اور تختہ دار بنا ہوا تھا جہاں پھانسی دی جانی تھی، وہ زمین سیاستدان نے راتوں رات ایک پرانے معاہدے کے تحت حکومت سے بھاری قیمت پر لیز پر حاصل کر لی۔ پھانسی کے وقت وکیل نے عدالت میں یہ قانونی نکتہ اٹھایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو اس کی اپنی یا اس کے والد کی نجی ملکیت پر پھانسی نہیں دی جا سکتی۔ اس قانونی پیچیدگی کی وجہ سے پھانسی روک دی گئی اور آخر کار وہ لڑکا رہا ہو کر گھر پہنچ گیا۔

گھر پہنچتے ہی باپ نے بیٹے کو گلے لگانا چاہا، لیکن بیٹے نے وہی پستول نکال لیا جس سے اس نے پہلے قتل کیا تھا۔ باپ نے حیرت سے پوچھا کہ “یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے تمہیں بچانے کے لیے اپنی آدھی جائیداد لگا دی۔” بیٹے نے سرد لہجے میں جواب دیا کہ “آپ نے خود ثابت کر دیا کہ پیسہ ہو تو قانون کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اب مجھے باقی کی جائیداد بھی ابھی چاہیے تاکہ میں مزید طاقتور بن سکوں۔” یہ کہہ کر اس نے اپنے باپ کو بھی گولی مار دی جس نے اسے بچانے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *