یہ کسر باقی تھی : نازیبا تصویروں پر تنازعہ

یہ کسر باقی تھی : نازیبا تصویروں پر تنازعہ ۔۔۔
سگے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کو تھانے اور ایف آئی اے میں گھسیٹ لیا ۔۔۔۔چیتھڑے اڑا دیے ۔۔۔
لاہور :چونگی امر سدھو کی ایک خاتون کے اپنی سگی بہن اور بھائی پر انتہائی سنگین اور شرمناک الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اچانک وائرل ہوئی جس نے دیکھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا، کئی لوگوں نے اسے دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگا لیے اور شدید حیرت و افسوس کا اظہار کیا۔
شازیہ نامی اس خاتون کے نشانے پر اس کی سگی بہن بشریٰ اور بھائی عامر ہیں۔ شازیہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک پلاٹ مسجد کے لیے مختص کیا تھا، مگر اس کی بہن بشریٰ نے مبینہ طور پر اس جگہ کو غلط سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس کے مطابق لاہور کے امیر علاقوں کے افراد اس کے پاس آتے ہیں اور وہ کئی کئی دن ان کے ساتھ گزار کر لاکھوں روپے کما کر واپس آتی ہے۔
شازیہ کے مطابق جب وہ اور اس کے گھر والے اسے اس راستے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ الٹا انہی پر الزامات لگانا شروع کر دیتی ہے۔ شازیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی بہن کے پاس ہر وقت ادویات موجود ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنے مبینہ گاہکوں کو دیتی ہے، اور اس کا طرزِ زندگی مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
الزامات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہ کہیں نہ جائے تو اس نے کئی افراد کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں جو باری باری اس کے پاس آتے ہیں، کوئی اسے کھانے پینے کی چیزیں دیتا ہے اور کوئی دیگر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ شازیہ کا کہنا ہے کہ اس کی بہن اس حد تک جا چکی ہے کہ اگر موجودہ شوہر پیسے نہ دے تو وہ اپنی ہی بیٹی کے حوالے سے بھی خطرناک دھمکیاں دیتی ہے۔
مزید یہ کہ ایک واقعے میں مبینہ طور پر بچی کو رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر وہ مری چلی گئی، جہاں بعد میں انتہائی افسوسناک صورتحال سامنے آئی اور اس پر قانونی کارروائی بھی کی گئی۔
دوسری جانب شازیہ کا الزام ہے کہ اس کی بہن بشریٰ اور بھائی عامر نے خود اپنی نازیبا تصاویر بنا کر ان پر ڈال دیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان کا اصل قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسے غلط کاموں سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔
یہ معاملہ اب شدت اختیار کر چکا ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف قانونی اداروں سے رجوع کر چکے ہیں۔ شازیہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک باقاعدہ کمیٹی بنائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور انہیں اپنے ہی بہن بھائیوں کے ہاتھوں ہونے والی بدنامی سے بچایا جا سکے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندانی تنازعہ ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح ذاتی اختلافات سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی تماشہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے، یہ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی، مگر اس وقت یہ معاملہ ہر طرف بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
