pakistan

روسی صدر پیوٹن کا انوکھا اعلان

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے درمیان روس نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یکم اپریل سے 31 جولائی تک، یعنی تقریباً چار ماہ کے لیے پیٹرول اور گیسولین کی برآمدات محدود یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روس کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور وہ طویل عرصے تک ان وسائل کے ذریعے آمدنی حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے کو عالمی مارکیٹ پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پہلے ہی بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں روس کا یہ قدم یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، جہاں توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات پر منحصر ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عام صارفین تک بھی پہنچیں گے۔ ساتھ ہی یہ اقدام عالمی سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ کر سکتا ہے، جہاں مختلف طاقتیں اس بحران کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *