نیکی، نمائش اور نیا زمانہ

پہلے زمانے میں یہ روایت عام تھی کہ لوگ گناہ کر کے پچھتاتے تھے اور نیکیاں خاموشی سے انجام دیتے تھے۔ مگر اب حالات کچھ مختلف دکھائی دیتے ہیں، جہاں بعض افراد کے نزدیک نیکی کو ظاہر کرنا بھی ضروری سمجھا جانے لگا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے۔
جوں ہی عید کا چاند نظر آیا اور اعتکاف کا اختتام ہوا، ایک دلچسپ منظر دیکھنے میں آیا۔ ایک صاحب جو عبادت میں مصروف تھے، جیسے ہی مصروفیات ختم ہوئیں تو فوراً اسمارٹ فون کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یوں محسوس ہوا جیسے عبادت کے بعد اب توجہ کا مرکز سوشل میڈیا بن گیا ہو۔
جب وہ تنہائی سے باہر آئے تو توقع یہ تھی کہ ان کے چہرے پر روحانیت کا اثر نمایاں ہوگا، مگر اس کے برعکس انہوں نے سب سے پہلے اپنی نجی زندگی کے لمحات کو عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ گویا اب جذبات کے اظہار کا انداز بھی بدل چکا ہے، جہاں نجی احساسات کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں شیئر کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہم واقعی نیکی کے اصل مقصد کو سمجھ رہے ہیں، یا پھر ہم آہستہ آہستہ دکھاوے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ بلاشبہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہر فرد کو خود غور کرنے کی ضرورت ہے۔
