جرمنی میں مقیم شہری نے علی پور چٹھہ میں اپنی بیوی اور 2 سالیوں کو

جرمنی میں مقیم شہری نے علی پور چٹھہ میں اپنی بیوی اور 2 سالیوں کو ق۔ت۔ل کیا اور اسی روز واپس جرمنی بھاگ گیا ، بیوی اور سالیوں کا قصور کیا تھا ؟ محبت کرنے والا شوہر درندہ کیوں بنا ؟ مئی 2025 میں پیش آئے واقعہ کا تین روز قبل ڈراپ سین ہو گیا ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ کے علاقہ علی پور چٹھہ کا منشا 5 سال جرمنی میں کمائی کرکے گھر واپس آیا تھا ، اسکی خوب آؤ بھگت ہوئی ، گھر کے علاوہ رشتہ داروں میں دعوتیں ہوتی رہیں ۔ اسکی بیوی نازیہ گھر میں اکیلی رہتی تھی اپنی بوریت اور تنہائی دور کرنے کے لیے وہ اپنی دو بہنوں 18 سالہ رملہ اور 20 سالہ ماریہ کو اکثر اپنے پاس بلا لیتی، جو کہ ہفتوں یا مہینوں اسکے پاس رہتیں ، جب منشا واپس آٰیا تو اسکی سالیاں اپنے گھر واپس چلی گئی تھیں ، اس دوران نازیہ نے منشا سے کہا کہ آپ مجھے بھی ساتھ جرمنی لے جائیں ہمارا بچہ بھی کوئی نہیں ، آپ پھر سالوں بعد آئیں گے میں نے یہاں اکیلے کیا کرنا ہے ؟ منشا نے بیوی کو تسلی دی کہ میں تمہارا ویزہ منگواتا ہوں بلکہ ایسا کرو تم اپنی دونوں بہنوں کو بھی کہو وہ بھی ساتھ چلیں انکا مستقبل بن جائے گا ، اگر تمہارے والدین اور بھائی مان جائیں تو میں اپنے پاس سے انکے ویزے بھی منگوا لیتا ہوں ، تمہاری بہنیں ہیں تو میرا فرض بنتا ہے ، رملا اور ماریہ کے والدین اور بھائی بھی خوشی سے مان گئے ۔۔۔۔ کچھ ہفتے بعد منشا نے ظاہر کیا کہ ویزہ آگیا ہے چنانچہ روانگی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ، وقوعہ کے روز منشا نے بیوی اور دونوں سالیوں کو اپنے ایک دوست کی کار میں بٹھایا اور گھر کو تالے لگا کر لاہور کی جانب روانہ ہوئے ، لیکن کچھ دور جاکر اس نے بتایا کہ کوئی فائل گھر بھول آئے ہیں جو کہ بہت ضروری ہے وہ قریب ہی اپنے بھائی کے گھر دونوں سالیوں کو اتار کر بیوی کےساتھ واپس اپنے گھر آتا ہے ، یہاں وہ ایک کمرے میں بیوی کو گو۔لی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالتا ہے اسکی لا۔ش کو ایک چادر میں باندھ کر گاڑی کی ڈگی میں ڈالتا ہے اور ایک ویرانے میں جاکر بیوی کی لا۔ش پھینک دیتا ہے اسکے بعد وہ اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے جہاں دونوں سالیاں منتظر تھیں ، اس گھر میں اسکے دو بھتیجے بھی موجود تھے جو اسکے پلان میں شامل اور راز دار تھے ، تینوں نے ملکر رملا اور ماریہ کو ق۔ت۔ل کیا اور دونوں کی لا۔شیں کار کی ڈگی میں ڈال کر قریبی نہر میں لے جاکر پھینک دیں ۔۔۔ اسکے بعد ملزم کے بھتیجوں نے دونوں گھروں میں جرم کے سراغ مٹائے اور منشا لاہور روانہ ہوا جہاں سے وہ جرمنی چلا گیا اسکی ٹکٹ پہلے ہی بک تھی ،۔۔۔ اب اگلے روز ایک کسان نے ایک خاتون کی لا۔ش ملنے کی اطلاع پولیس کو دی ، پولیس موقع پر پہنچی فنگر پرنٹس کی مدد سے شناخت کو گئی اور نازیہ کی لا۔ش ہسپتال منتقل کردی ، اسی روز شام کو حافظ آباد میں بھی کسی نے دو لڑکیوں کی لا۔شیں نہر سے ملنے کی اطلاع دی ، پولیس نے ضروری کارروائی کی اور پتہ چل گیا کہ یہ دونوں اسی نازیہ کی بہنیں ہیں جسکی لا۔ش ایک روز قبل علی پور چٹھہ سے ملی تھی ،تینوں بہنوں کے گھر والوں نے ابتدائی معلومات فراہم کردیں پولیس کو بتایا گیا کہ نازیہ کا شوہر تینوں بہنوں کو جرمنی لے جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوا تھا ، منشا کا کال ریکارڈ چیک کیا گیا تو آخری کالز اسکے بھتیجوں کے ساتھ تھیں جنہیں پولیس نے چند روز میں گرفتار کر لیا اور انہوں نے اعتراف کر لیا کہ انکے چچا نے اپنی بیوی کو ق۔ت۔ل کیا جب کہ انہوں نے دو بہنوں کو ق۔ت۔ل کرنے میں مدد کی ، گرفتار بھتیجوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ منشا کو اپنی بیوی اور سالیوں کے کردار پر شک تھا اور وہ اسے اپنی بے عزتی گردان رہا تھا ، پولیس نے دونوں ملزمان کو چالان کرکے جیل بھیج دیا جبکہ مرکزی ملزم منشا کو جرمنی سے پاکستان لانے کے کیس پر کام شروع ہوا ، طویل محنت کے بعد یعنی 10 ماہ بعد چند روز قبل 16 مارچ کو ڈی پی او گوجرانوالہ غیور اختر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تین بہنوں کے ق۔ت۔ل کیس میں مرکزی ملزم منشا کو جرمنی سے ڈیپورٹ کروا کے پاکستان لایا جا چکا ہے اور اس وقت وہ گوجرانوالہ پولیس کی تحویل میں ہے ، اس نے اپنے ابتدائی بیان میں ہی جرم کا اعتراف کر لیا اور وجہ بیوی اور سالیوں کی بدکرداری کو قرار دیا ، ملزم کا خیال تھا کہ ق۔ت۔ل کرکے وہ واپس جرمنی جائے گا تو اسے واپس لانے کے لیے اتنی محنت کون کرے گا لیکن اسے شاید یہ معلوم نہ تھا کہ بے گناہوں کے خو۔ن سے ہاتھ رنگنے والے ایک نہ ایک دن اپنے انجام کو ضرور پہنچتے ہیں، یہ اصول قدرت ہے ۔۔۔۔۔۔
