شک نے ایک اور معصوم کی جان لے لی

بیوی سادیہ مجھے معاف کر دو میں بے گناہ ہوں ظالم شوہر نے ایک نہ سنی۔۔۔یہںدل دل د۔ہلا دینے والہ واقعہ لالو دین گاؤں میں پیش ایا جہاں ایک بہتان کی وجہ سے بے گناہ کی جا۔ن چلی گئی ۔۔۔لالو دین گاؤں کا وحید نامی لڑگا پڑوسن سادیہ کی خوبصورتی اور سادگی پر دل ہار بیٹھا۔۔۔سادیہ کا شوہر جعفر پولیس میں ملازم تھا اور سخت مزاج تھا۔وحید بار بار سادیہ سے دوستی کرنے کی کوشش کرتا مگر ہر بار سادیہ انکار کر دیتی۔سادیہ اپنے شوہر جعفر سے بے حد محبت کرتی تھی ۔۔۔۔ سادیہ نے اس ڈر سے خاموشی اختیار کی کہیں میرا شوہر وحید کو ما۔ر نہ دے جھگڑے کےںڈر سے سادیہ خاموش رہی۔۔۔۔ سادیہ نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔۔وحید نے سادیہ کی شوہر سے طلاق دلوانے کے لیے ایک گھناؤنی سازش رچی ۔۔۔۔وحید کو کیا پتہ تھا کہ یہ سازش سعدیہ کے لیے مو۔ت ثابت ہو گی۔۔۔۔ وحید نے دوست کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ۔اور دوست کو بلا کر کہا کل آپ نے ایسا کرنا جب سعدیہ باہر ائے تو میں اس سے باتیں کرنے کی کوشش کروں گا اور اسے چھونے کی کوشش کروں گا اپ نے ویڈیو بنا لینی ہے جونہی سادیہ کوڑا ڈالنے کے لیے باہر آئی وحید سعدیہ کے پاس گیا ۔ اور سعدیہ کوئی چھیڑنے لگا دوست نے ویڈیو بنا لی سعدیہ نے ہاتھ جھٹک دیا اور گھر چلی گئی۔۔ سادیہ وحید کی حرکتوں سے تنگ آ گئ اور وحید کے بار میں اپنے شوہر کو سب کچھ بتانے کا ارادہ کر لیا۔۔۔
ادھر وحید کا دوست سعدیہ کے شوہر کو ویڈیو دیکھا دی
اور جعفر کو بتایا کہ آپ کی بیوی کے وحید کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔۔۔
جعفر نے جب یہ بات سنی تو طیش میں آ گیا ۔۔۔اپنی پسٹل اٹھائی اور گھر چلا گیا ۔۔
جونہی گھر پہنچا سادیہ نے دیکھنا شوہر کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اسے نے فوراً اپنا ارادہ بدلہ۔اور جعفر کو وحید کے بارے میں بتانے کا ارادہ ترک کر دیا اور پانی لے کر آ گئی مگر جعفر طیش میں آ گیا اور پانی کے گلاس کو سادیہ کو دے مار ۔۔۔۔اور زور سے چلایا کہ گندی اور نا فرمان عورت میں ڈیوٹی پر جاتا ہوں آپ وحید کے ساتھ گلی میں رنگ رلیاں مناتی ہو سادیہ نے کہا میں وحید کے بارے میں آپ کو بتانے والی تھی۔۔ ابھی سادیہ نے پوری بات مکمل نہیں کی تھی۔۔ کہ شوہر نے پسٹل کا فا۔۔ئر کر کے سادیہ کو قت۔ل کر دیا۔۔۔وحید یہ سب کچھ دیوار کے ساتھ کھڑا دیکھا رہا تھا ۔۔وحید یہ سب کچھ دیکھ کر بھاگ گیا ۔سادیہ کے شوہر جعفر وحید کو مار۔نے کے لیے گھر گیا مگر وحید بھاگ چکا تھا سادیہ کے والد جعفر کے خلاف تھانہ میں ایف ائی ار درج کرائی پولیس نے وحید اور وحید کا دوست اور سادیہ کے شوہر کو پکڑ کر تفتیش کی تعںوحید نے ساری کہانی بتا دی جب تفسی شفیسر نے سادیہ کے شوہر کو یہ سب کچھ بتلاییا تو سادیہ کا شوہر جعفر دھااڑیں مار مار کر رونے لگا کاش میں سادیہ کی مکمل بات سن لیتا۔۔۔کہ میں نے ایک پاک دامن بیوی کو قتل کر دیا مگر بہت دیر ہو چکی تھی ہو چکی تھی وحید کے بہتان نے سعدیہ کی جان لے لی اور ساتھ یہ کہ شوہر نے سادیہ کی بات نہ سن ایک پاک دامن بیوی کو نا حق ق۔تل کر اپنی زندگی برباد کر دی۔۔۔۔۔۔
